مرکزی مینو پر واپس جائیں →

 

LGBT پناہ گزینوں کے حقوق


LGBT کا کیا مطلب ہے؟

LGBT، لسبین، گے، بائی سیکسول، ٹرانز سیکسول کا مختصر لفظ ہے۔

  •  لسبین یا ہم جنس پرست = وہ عورتیں جو دوسرے عورتوں سے پیار کی خواہش رکھتی ہے

  •  گے یا ہیجڑا = وہ آدمی جو آدمی سے پیار کا خواہش رکھتا ہے۔

  •  بائی سیکسول یا دونوں جنس = وہ لوگوں جو دونوں مرد اور عورت کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔

  •  ٹرانز سیکسول = ٹرانز سیکسول لوگ ایک جنسی شناخت رکھتے ہیں جو کہ غیر مخالف کے ساتھ، یا کلچرل طور پر شریک، ان کو دیا گیا جنس اور خواہش رکھنا کہ مستقل طور پر جنس کو تبدیل کریں۔


کیونکہ مجھے میری جنسی تشریق یا صنفی شناخت کی وجہ سے ملک میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا تو کیا میں یورپ میں اسائلم کے لیے درخواست دے سکتا/سکتی ہوں؟

جی ہاں، آپ کر سکتے ہیں۔ 2011 میں یورپی یونین نے بیان کیا ہے کہ کسی ایک شخص کی جنسی تشریق یا جنسی شناخت پر مبنی ظلم و ستم ایک جائز مسئلہ ہے کہ ایسے لوگوں اسائلم دیا جائے۔ پناہ لینے والے سٹیٹس کے لیے آپ کا یہ حق ہے آپ کے اپنے جنسی شناخت، جنسی ترجیح (مثال کے طور پر آپ کے لباس کا طریقہ) یا جنسی ترجیح کی بنیاد پراگر آپ کی زندگی، آزادی، جسمانی حفاظت یا دوسرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے .


کیا یہ کوئی مسئلہ ہے میرے اسائلم درخواست کے لیے کہ کس نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے؟

کبھی کبھار حکومتی حکام کی طرف سے تکلیف دینے کی وجہ سے اسائلم کے لیے کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر خاندان کے ارکان، غیر سرکاری اداروں، مذہبی اداروں، خاص افراد یا معاشرے کے دیگر عناصر سمیت دیگر اداکاروں کی طرف سے پریشانی بھی ہو۔ اگر آپ کا خوف زدہ کرنے والا ظالم شخص غیر سرکاری ہے تو آپ صرف اس صورت میں اسائلم کے لیے اہل ہیں اگر آپ کا ملک آپ کو حفاظت نہیں دے سکتا۔


کیا یہ بھی مصیبت میں آتا ہے اگر میرے ملک میں ہم جنسی ایکٹس قانونی کی طرف سے جرم کی طور پر ہوں۔

نہیں، صرف قانونی کی موجودی جو ہم جنسی ایکٹس کو چارج کرتی ہے ضروری طور پر پروسیکیوشن نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر یہ قانون آپ کے آبائی ملک میں استعمال ہوتی ہے اور اگر آپ کو ہم جنس کے طور پر جیل میں ڈال دیا جا سکتا ہے، پس یہ ایک پروسیکوشن کا عمل ہے، کیونکہ یہ ایک سزا ہے جو کہ غیر متناسب یا امتیازی ہے۔


میری شادی ہوئی ہے کیونکہ یہ میری فیملی کی ضرورت تھی لیکن در اصل میں میں ہم جنس پرست ہوں کیونکہ اب بھی میری شناخت میری جنسی تشریق کے بنا پر پناہ گزین کے طور پر ہوگی؟ 

ایسا فرض کریں کہ اپ پروسیکوشن سے ڈرتے ہیں کیونکہ اپ ہم جنس پرست ہے، تو اپ اسائلم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اگر آپ پہلے سے ہی (یا ابھی) شادی شدہ ہیں۔ آج بہت سے پناہ گزین اور اسائلم ایگزامنر یہ جانتے ہیں کہ سماجی دباؤ اور ثقافتی اقدار لوگوں کو شادی کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو وہ ایسا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ بہت سے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ لوگ جو جنسی رجحان کا اظہار کرتے ہیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ حتی اگر آپ کی  علمی انٹریو ہو رہی ہو، تو سوالات کے جوابات کے لیے تیار ہو جائیں ان حالات و واقعات کے لیے جو آپ کے شادی کے ارد گرد ہو، آپ کا جنسی رجحان اور آپ کا کسی کے ساتھ موجودہ تعلق۔ جہاں آپ پناہ کے لئے درخواست کر رہے ہیں اس پر منحصر ہے، آپ ایک انٹریو لینے والے کا سامنا کر سکتے ہیں جو آپ کو سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ ہم جنس پرست ہوسکتے ہیں اور آپ کی شادی ہو چکی ہے۔ اپنے انٹرویو لینے والے کو گفتگو کرنے کا یہ یقین دلا دو کہ آپ کے معاشرے میں تمام لوگوں کو ان کی جنسی بنیاد پر شادی کرنا پڑتا ہے۔ کوشش کریں کہ وہاں پر ایک ہم جنس پرست کتنی مشکلات کا سامنا کرتا ہے اگر وہ غیر شادی شدہ رہ جائے۔


میں ایک آدمی ہوں اور پناہ لینے کے لئے درخواست دے رہا ہوں کیونکہ مجھے دوسرے آدمی کے ساتھ آشنائی میں پکڑا گیا تھا لیکن در اصل میں میں ایک بائی سیکسول ہوں۔ کیا مجھے خواتین کے ساتھ پناہ گزین کے حکام سے اپنے تعلقات کو چھپانا ہوں گا؟ 

بائ سیکسیول اسائلم کے لیے ایک بنیاد ہو سکتا ہے، اگر چہ یہ مشکل ہے کہ آپ اہلیت کو ثابت کریں، اور ایٹریو کے دوران کچھ مشکل سوالات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ پھر بھی، آپ کو سچائی بتانی چاہیے اور کسی بھی معلومات کو چھپانا نہیں چاہیے۔ عدم تواتر اور وہ جو سچ نہ ہو عام طور پر پناہ گزینوں کے انٹرویو کے دوران ڈال دی جاتی ہے اور آپ نتیجہ یہ کہ آپ کے کیس کو رد کیا جا سکتا ہے۔ عورتوں سے تعلقات کے سلسلے میں ایماندار رہیں۔ اگر آپ کو حقیقی طور پر نقصان سے ڈر ہے کیونکہ آپ کسی مرد کے پاس تھے یا ہیں، تو آپ بالاآخر جیتیں گے۔


آپ کے ملک میں، وہ لوگ جو LGBT کے طور پر جانیں جاتے ہیں ان کے مخالف امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور تششدد کا سامنا کرتے ہیں۔ میں دو کو جانتا ہوں جسے مارا گیا تھا۔ لیکن اگر آپ اس کو چپھائیں، تو آپ زندہ بچ سکتے ہیں۔ کیا میں پناہ لینے کے سٹیٹس کے لیے درخواست دے سکتا ہوں۔

جی ہاں، آپ کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں، بہت سے ممالک نے لوگوں کے پناہ لینے کے درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جو گھر جانے اور رہنے کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں "غیر مسلسل طریقے سے" (الماری میں بند یا غیر عملی) 2013 میں یورپ جسٹس کورٹ نے یہ قانون دیا ہے کہ ایک شخص الماری میں بند کے طور پر نہیں رہ سکتا اگر اس نے تکلیف یا مشکلات سے بچنا ہو۔ پس یہ ممکن نہیں کہ موقع پر ہی آپ کے اسائلم درخواست کو مسترد کیا جائے، لیکن آپ کو مصیبت یا پروسیکوشن سے ڈرنا نہیں چاہیے اگر آپ اپنے ہم جنسی پرست ہونے کو اپنے آبائی ملک میں چپھائے یا اس کو دکھانے کے لیے شرمانے کی مشق کرنا۔ (کچھ ایسے ممالک ہیں جو لوگوں میں تھوڑا بہت فرق کرتے ہیں جن کو ضرور الگ رہنا چاہیے کہ پروسیکوشن سے بچایا جا سکے اور وہ جو سماجی دباو سے بچنا چاہتے ہیں۔ درخواست دینے سے پہلے، اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ اس جگہ پر قانون کو سمجھتے ہیں جہاں پر آپ اپنی کامیابی کے امکانات کا جائزہ بہتر طریقے سے لے سکیں۔


کیا مجھے اپنے اسائلم انٹرویو میں میری ہم جنس پرست ہونے کے کسی قسم کا"ثبوت" لانا ہوگا؟

نہيں۔ صرف ایک چیز جو آپ کو کرنا ہے وہ وجہ بتانی ہے کہ آپ وہاں سے کیوں بھاگ گئے ہیں اور آپ کے ارد گرد کے حالات سچائی کے ساتھ جتنا ممکن ہو۔ 2014 میں یورپی جسٹس عدالت نے کہا کہ یورپی یونین کے ممبر ممالک کو یہ اجازت نہیں ہے کہ پناہ لینے والے درخواست گزار سے کسی بھی قسم کی ٹیسٹ یا ثبوتوں کو قبول کریں یا اس کی ضرور محسوس کریں جو ان کے جنسی تشریق سے متعلق ہو۔ انٹریو لینے والے کو بھی اس کی اجازت نہیں ہے کہ کسی قسم کے سوالات کریں جو درخواست گزار کے اسائلم کے جنسی تشریق سے ہو۔ یورپی قانون میں یہ لکھا گیا ہے کہ ریاستی اراکین انٹرویو لینے والوں کو سنجیدگی سے سنبھالنے اور درخواست دہندگان کی ثقافتی، جنس، جنسی واقفیت اور/یا صنف کی شناخت کو پورا کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ تاہم حقیقت میں یہاں پر خاص تربیت یافتہ اسائلم آفیسر موجود نہیں ہے اس بات کا یقین کرنے کے لئے سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ آپ کا انٹرویو مناسب اور وقارانہ طریقے سے ہوا ہے، اگر وکیل یا مشیر آپ کے ساتھ ہو۔ اس کے علاوہ اگر آپ سے خوف دلانے والے سوالات کیے گئے ہوں، تو آپ ایک وکیل یا NGO کی مدد سے انٹریو کے بعد اپنے بدسلوکی کے خلاف ایک کمپلینٹ یا شکایت فائل کر سکتے ہیں۔


کیا یہ میرے اسائلم کو درخواست کو نقصان پہنچا سکتا ہے اگر میں پہلے سے یہ بیان نہ کرو کیونکہ میں جنسی تشریق سے ہوں جس کے لیے میں اسائلم کے لیے درخواست دے رہا ہوں۔

نہیں، یہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ یوربی یونین کے ممبر ممالک کو یقین کرنے کی یہ اجازت نہیں ہے کہ درخواست گزار کا بیان پناہ لینے کے لیے حقیقت پسندانہ نہیں کیونکہ درخواست گزار نے پہلے موقع پر اپنے جنسی تشریق کو ظاہر نہیں کیا ہے کہ پروسیکیوشن کے حالات کو ظاہر کریں۔ اگر گراونڈ پر آپ اپنے جنسی شناخت، تاثرات یا جنسی پسند کے پروسیکیوشن کو بیان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، یا ایسا کرنے کے لیے آپ اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں، تو آپ کو ضرور یہ کہنا چاہیے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹرامیٹک (افسوسناک واقعہ) تجربے اور/یا یہاں یورپ میں جاری پروسیکیوشن خوف کی وجہ سے آپ اپنے ملک کو چھوڑنے کے لیے کوئی خاص وجہ بیان نہیں کر سکتے یہ اس بات کو یقینی بنا دے گا کہ آپ کے ساتھ انتخاب ہوگا کہ بعد میں یا طریقہ کار میں مزید وجوہات بتائیں بغیر کسی خوف کے اسائلم کا اختیار رکھنے والوں کے سامنے اپنے پہلے تقرری کے دوران۔


جب میں انٹریو میں اختیار رکھنے والوں کو اس کے بارے میں کہوں کیا مجھے اس بات کا ڈر ہونا چاہیے کہ میرے دوست یا فیملی ارکان میرے جنس پرست ہونے کے بارے میں جان جائیں گے؟

نہیں، تمام یورپی ممالک میں اسائلم سروس آپ کے معلومات کو جو آپ نے انٹریو میں دی ہو سیغہ راز میں رکھے گا اور کسی تیسرے پارٹی کے ساتھ اس کی شراکت نہیں کرے گا۔


میں ڈرتا ہوں کہ میرے ہم جنس پرست ہونا کیمپ میں ظاہر ہو جائے گا اور میں امتیازی سلوک یا پروسیکیوشن سے ڈرتا ہو۔ میں کیا کرسکتا ہوں؟

اگر آپ کیمپ میں یا رہائش کی جگہ میں امتیازی سلوک یا پروسیکیوشن کے بارے میں ڈرتے ہیں کیونکہ آپ ہن جنس پرست ہے، تو آپ کو ضرور اپنے لیے مدد ڈھونڈنا چاہیے۔ آپ کیمپ میں UNHCR سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ وہ شائید آپ کی مدد کریں یا آپ کو کسی ادارے کے حوالے کریں، جو کہ LGBT پناہ لینے والوں کے لیے مہارت رکھتے ہیں۔ اس کی زمہ داری ہے کہ معلومات کو سیغہ راز میں رکھیں جو آپ نے دی ہے۔


براہ کرم آگاہ رہیں کہ یہ صرف عام معلومات ہے. اگر آپ کے ذاتی سوالات ہیں اپنی درخواست کے متعلق تو آپ اپنے وکیل سے رابطہ کریں اگر ہے تو، یا فیس بک پر ہمیں لکھیں